Pakistan

ایک لمحے کا غصہ،زندگی بھر کا نقصان

Mann raufft sich die Haare
Written by meerab

اسلام ميں غصے کو حرام قرار دیا گيا ھے۔بظاھريہ ايک سادہ اور معمولی سی بات لگتی ھے۔اسلام ميں دیگر تعليمات کی طرح اس کی گہرائ کو سمجھنے پر بہت زور دیا گیا ھے۔درحقٰیقت اس میں انسانی زندگی کے ایک ایسے مسؑلے کی طرف نشاندہی کی گی ھےجو مستقبل کو تاریک بھی کر سکتا ھے۔اور اگر آپ

اس سے صحيح طور پر نپٹ کر گزر جا ٰئيں تو بہت بڑی تباہی سے بچ سکتے ھیں ۔

      آج کی تیز رفتار زندگی میں انسان کے مساٰئل بہت زیادہ بڑھ گئے ھیں۔اکثر انسانوں پر کام کا بوجھ بہت202-300x198 زیادہ ھےجس کی وجہ سے اعصابی تناؑو اور کشیدگی مٰیں اضافہ ھو  چکا ھے۔سکون بخش اورخواب آوردواوؑں کا استعمال بہت بڑھ گیا ھے۔اپنی روزمرہ زندگیکے تناوٗ کو برداشت کرنے لیے انسان کو ان  مصنوعی سہاروں کی ضرورت پڑتی ھے۔اس کے باوجود اکثر انسان غصےکے حملے سےنہیں بچ پاتےکبھی نہ کبھی ،کسی نہ کسی موقع پر وہ غصےسے پھٹ پڑتے ہیں

        ز یادہ تر لوگ اپنا غصہ اپنے سے کمزور پر،ماتحتوں پریامجبوروں پر نکالتےہیں۔لیکن غصہ ایسی ظالم چیز ھےکہ جب یہ انسان پرکچھ زیادہ قابو پا لے تو اسے احساس بھی نہیں رہتا کہ اس کے سامنے چھوٹا ھے کہ بڑا،کمزور ھےیا طاقتور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نہ ھی یہ سوچنے سمجھنے کے قابل رہتا ھےکہ جس طرح وہ اپنے غصے کا اظہار کر رہاھے اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔اس سے دوسروں کو نقصان پہنچے گا یا خود اس کی اپنی ذات کو؟چو نکہ غصہ انسان کو سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں چھوڑتااور ایک لمحے کا غصہ انسان کی پوری زندگی برباد کر دیتا ھے۔اسی لئے اسلام میں اسے حرام قرار دیا گیا ھے۔

غصے سے مغلوب ھو کر انسا ن کیا کچھ کر سکتا ھےیہ جان کر اگر آپ عبرت پکڑنا چاھیں تو اس کے لیے روز کے اخبار پر نظر ڈال لینا ہی کافی ھے۔آۓ دن کے اخبارات روح فرساں واقعات سے بھرے ہوتے ہیں۔جن کو پڑھ کر لوگ دیر تک افسوس کرتے رہتےہیں،کانوں کو ہاتھ لگاتےہیں اور اپنے رب سے رحم مانگتے ہیں۔یہ واقعات صرف غصے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

اولاد کے آرام وسکون کے لیے والدین اپنا سکون اور آرام برباد کر دیتے ہیں،اپنے منہ کا نوالہ ان کو کھلاتے ہیں لیکن ہم نے ایسے واقعات بھی پڑھے ہیں کہ غصے سے یا زندگی کی پریشانیوں سے تنگ آکر ماں یا باپ نے اپنی اولاد کو ذبح کر دیا،زہر دے کر مار دیایا گولی مار دی۔شاہد آفر یدی جب 2011کے ایک میچ میں دورنز پر آؤٹ پرڈریسنگ روم میں بیٹ اور ٹی وی دونوں توڑ دیتے ھیں تو ان کا یہ غصہ اور جنجھلاہٹ اگرچہ خود پر تھی اور اس سے کویٔ ناقابل تلافی نقصان بھی نہیں ھوا تھا،اس کے باوجود انہیں پوری دنیا سے اس پر معذرت کرنا پڑی تھی

جان گیلیا نوایک بہت بڑی اورمشہور کمپنی کے چیف ڈائریکٹر تھے۔اس کمپنی کی مصنوعات دنیا کے صرف انتہایٔ دولت مند لوگ خریدتے ہیں۔اس کمپنی کا چیف ڈائریکٹر ہونا کوئ معمولی بات نہیں۔اس کمپنی کے ایک بہت بڑے فیشن شو کے بعد کمپنی ان کو نکالنے پر مجبور ہو گئ۔بات صرف اتنی سی تھی کہ غصے سے مغلوب ہو کر جان نے ایک جوڑے کے مذہبی عقائد کے خلاف ایک بات کہ دی جو کے میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے آگئ۔جان نے بہت وضاحتیں کیں ،معذرتیں کیں مگر ان کو اپنی شاندار نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے۔اور کسی بھی دوسری کمپنی نے انہیں قبول نہ کیا۔کئ اداروں کے مالک اپنی نجی محفلوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ اپنے غصے کی وجہ سے انہوں نے اپنے کسی بہت اچھے کاروباری ساتھی،ملازم یا کارکن کو کھو دیا ہے اور اس سے ان کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

ہمارے ملک کے لوگ غصے کے باعث اکثر جو کچھ کر گزرتے ہیں اس کا نمونہ ہمیں اکثر اخبارات کے ان نمونوں سے ملتا ہے جس میں وہ مختلف عقائد کے رہنماوٗں سے فتوے لینے کے لیے خط لکھتے ہیں۔جناب غصے کی حالت میں میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی مگر اب میں پچھتا رہا ہوں۔غصے پر قابو رکھنا کوئ مشکل کام نہیں ھے۔حقیقت یہ ھے کہ لوگ اپنے غصے پر قابو پانا ہی نہیں چاہتے کیونکہ یہ ایک تکلیف دہ کام ھے۔انسان اگر اس کو ضبط کر بھی لے تو اندر ھی اندر کھولتا رہتا ہے،جس سے اس کو تکلیف ہوتی ھے۔جبکہ غصے کا اظہار کر کے وہ اپنے آپ کو ہلکا پھلکا کر لیتا ھے اور بہت سے پچھتاوے بھی مول لے لیتا ھے۔

About the author

meerab

Leave a Comment