ادب

بری صحبت کا انجام

team-players-cover
Written by meerab

ماسٹر جواد کا شمار ان محنتی اساتذہ اکرام میں ہوتا تھا جو کہ تعلیم کو ایک مقدس کے طور پرادا کرتے تھے ۔ان کو اپنے پیشے سے بہت لگاؤ تھا اور وہ اپنے طالبعلموں کو اپنا روحانی بیٹا مانتے تھے ۔ان کو اپنے طالبعلموں سے اس قدر لگاؤ تھا کہ وہ چند ہی دنوں میں ان کے نہ صرف نام یاد کر لیتے بلکہ ان کو ان کی آوازوں سے پہچان لیتے ۔یہ ایک انتہائی مشکل کام تھا۔وہ اپنی کلاس میں ہمیشہ وقت سے پہلے پہنچ جاتے  جس کا ان کو فائدہ یہ ہوتا کہ وہ چند ہی دنوں میں طالبعلموں کی عادات سے اچھی طرح سے واقف ہو جاتے۔ان کی جماعت پورے سکول میں ایک منفرد اور نمایاں حثیت رکھتی ۔

گزشتہ دو ماہ سے ماسٹر  جواد انتہائی پریشان تھے ۔ان کی پریشانی کی وجہ ان کے وہ  چار نئے طالبعلم تھے جو ان کے ناک میں دم کئے ہوئے تھے۔یہ چاروں انتہائی بگڑے ہوئے اور بد تمیز لڑکے تھے ۔ان کے ماں باپ نے ان کو سکول میں داخل کرا کر اپنی ذمہداری پوری کر دی مگر اس کے بعد کبھی دوبارہ پلٹ کر نہ پوچھا کہ ان کے بچے کیسا پڑھ رہے ہیں۔ان کا مر غوب مشغلہ ماڑ دھاڑ والی فلمیں دیکھنا اور لوگوں کو تنگ کرنا تھا ۔ان کے مشاغل ایک تھے اور سوائے ایک بات کے ان کے اندر تمام باتیں مشترک تھیں ۔اور وہ کہ ان میں سے ایک طالبعلم سکندر کے سوا باقی تمام غریب گھرانوں کے لڑکے تھے۔وقت گزرتا رہا اور ماسٹر جی ان کو قابو کرنے میں ناکام ہوتے گئے۔

ہائے میرا لعل کہاں چلا گیا ،کوئی اس کو ڈھونڈ لائے۔ہائے میں کیا  کروں ،میرا بیٹا نہ جانے کس حال میں ہو گا ۔کوئی میرے سکندر کو ڈھونڈ لائے۔ آمنہ  بے قرار ہوئے جا رہی تھی ،اس کی بے چینی اور رونا دیکھا نہ جا رہا تھا ۔محلے کی عورتیں اس کو دلاسہ دے رہی تھیں ۔اور اس کے رونے کا سبب پوچھ رہی تھیں۔اس نے روتے ہوئے بتایا کہ اس کا بیٹا سکندر صبح سے انگریزی کا پرچہ دینے گیا ہوا تھا اور اب رات تک واپس نہیں آیا ۔اس کا باپ اس کو ہر جگہ ڈھونڈ آیا ہے ، اس کے تمام دوستوں سے بھی پوچھ لیا ہے مگر کسی کو بھی اس کا نہیں پتہ۔۔

تھانے میں رپورٹ کرا دی گئی ۔تمام رشتے دار  اور پولیس والے اس کو ڈھونڈنے میں لگ گئے مگر اس کا کوئی اتہ پتہ نہ ملا۔ہر ایک کے چہرے کی ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔دولت کی ریل پیل ہونے کے باوجود وہ لوگ اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہے تھے۔اسی دوران اسد صاحب کے موبائل کی گھنٹی بجی،سب ایک سم اس طرف متوجہ ہو گئے۔موبائل کان سے لگاتے ہی اسد صاحب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں  اور وہ کانپنے لگے۔دوسری جانب ان کا بیٹا سکند تھا جو کہ بری طرح سے رو رہا تھا ۔

ابو مجھے ان غنڈوں سے بچائیں ،یہ مجھے مار ڈالیں گے،پلیز مجھے بچا لیں ۔سکندر کی آواز مدھم ہوتے ہی ایک اجنبی آواز ابھری ۔۔۔۔۔۔اگر تم اپنے بیٹے کو زندہ سلامت دیکھنا چاھتے ہو تو چپ چاپ پچاس لاکھ کا بندوبست کر دو ،ورنہ تمہارے بیٹے کی لاش تمہیں تحفے میں ملے گی۔اس کے ساتھ ہی فون بند ہو گیا ۔سکندرصاحب نے گھر کے باقی لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا اور وہ لوگ بھی خوفزدہ ہوگئے۔دولت کی ریل پیل کے باوجود اتنی بڑی رقم کا بندوبست کرنا آسان کام نہیں تھا ۔

صبح ہوتے ہی ان غنڈوں کا دوبارہ فون آیا۔کافی دھمکیاں دیں کی اگر رقم نہ ملی تو اس کے بیٹے کو مار دیں گے۔اس بار اسد صاحب نے کال ریکارڈ کر لی اور پولیس والوں کو سنائی کہ  پولیس والے غنڈوں سے اکثر واقف ہوتے ہیں ،مگر یہ آوازیں نئی اور نا واقف تھیں ۔ادھر ماسٹر صاحب کو پتہ چلا کی سکندراغوا ہو گیا ہے تو وہ بھی اس کے والد صاحب کو ملنے آئے۔ماسٹر صاحب نے سکندر کے والد صاحب کو بتایا کہ وہ تو کافی دنوں سے ہی پیپرز دینے آہی نہیں رہا ۔اس نے گھر والوں سے چھپایا ہے ۔اسد کو اس بات پر غصہ آگیا اوراس نے ماسٹر صاحب کو خوب جلی کٹی سنائیں کہ وہ جوٹ بول رہے ہیں ۔

ان کو کہا کہ وہ جائیں اپنے گھر کو سنبھالیں ، جتنی آپ کی تنخواہ ہے اتنی تو میرے  کاعخانے کے ملازم کی تنخواہ ہے ۔پر یشانی کے باوجود دولت کا غمار سر پر سوار تھا ۔ان الفاظ نے ماسٹر صٓحب کے سل کو چھلنی کر دیا اور وہ بوجھل قدموں سے واپس آگئے۔

کافی دن  گزر گئے اسد کو غنڈوں کا کوئی فون نہ آیا ۔اس کی بیوی کا رو رو کر برا حال تھا ۔پولیس بھی اپنی کوشش کر کے تھک چکی تھی مگر سکندر کا کو ئی پتہ نہ چل سکا۔مزید دس دن گزر گئے ۔ایک دن ما سٹر صاحب نے اپنے دوسرے طالبعلموں سے سکندر کا پوچھا کہ اس کا کیا بنا تو پتہ چلا کہ وہ ابہی تک لاپتہ ہے۔ دل نے کہاکہ جا کر سکندر کا پتہ کیا جائے مگر پھر  اس کے والد صاحب کی کی گئی بے عزتی یاد آئی تو  دل نے جانے سے روکا ۔کچھ دیر سوچتے رہے اور پھر اٹھ کر چل دیے کہ پر یشانی میں انسان اکثر ایسا کر جاتا ہے۔کوئی بات نہیں ۔جب ماسٹر صاحب اسد کے پا س گئے تو وہ بری طرح ٹوٹا ہوا تھا اورغم سے نڈھال تھا ،اٹھ کر ماسٹر صاحب سے گلے ملا۔اور رونے لگا ،ماسٹر صاحب کا سارا غصہ جاتا رہا۔کافی دیر تک باتیں کرتے رہے ،باتوں باتوں میں غنڈوں کے فون کا بھی ذکر آیا اور ریکارڈنگ کا بھی۔اسد نے ماسٹر صاحب کا ریکارنگ سنائی تو وہ فوراہچان گئے کہ یہ تو وہ ہی لڑکے ہیں جو سکندر کے ساتھ اس کی کلاس میں پڑھتے تھے۔انہوں نے اسد کو بتایا اور وہ پولیس کے پا س پہنچے ۔پولیس نے ان کے گھر چھاپہ مار کر ان کے والدین سے پوچھ گچھ کی اور ان لڑکوں کو پکڑ لیا۔اس طرح یہ کیس حل ہو گیا۔

سکندر اپنے رویے پر بہت شرمندہ تھا اور اس کو اپنے سال کے ضائع  ہونے کا بھی دکھ تھا ۔اس نے اپنے والدین سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ دل لگا کر پڑھے گا اور اپنی پرانی روش کو ترک کر دے گا۔

About the author

meerab

Leave a Comment