ادب

بھاری قیمت

boy1
Written by meerab

ایک ایسی کہانی جو آپ کو ایک لمحے کے لیے سوچنے پر مجبور کر دے گی

پچھلے کئی دن سے اس کے دماغ کے اندر کئی طرح کے منصوبے جنم لے رھے تھے۔ہر روز وہ پلان بناتا مگر اگلے دن اس پر عمل کرنے سے ڈر جاتا ۔ایک سوئی تھی جو اس کے دماغ کے اندر اٹک گئی تھی ۔ہر روز وہ سوتے میں خواب دیکھتا مگر صبح اس کی تعبیر کے خوف سے ڈر جاتا۔وہ کسی کو اپنی اس خوا ہش کے بارے میں بتاتا بھی تو کیسےوہ اس کا مذاق اڑاتےکوئی اس کے دکھ کو سمجھتا نہیں ۔بھلا کوئی امیر کسی غریب کا دکھ کیسے سمجھ سکتا ہے۔

پچھلے کئی دن سے وہ گوشت کھانا چاہ رہا تھا۔ایک سال گزر گیا تھا اس کو گوشت کھائے ہوئے۔۔۔۔۔۔بقر عید کے دن سارا دن اپنے مالک کے مہمانوں کی خدمت کی اس کےگھر کے تمام کام کئے تو رات کو جاتے ہوئے مالک نے اس پر احسان کرتے ہوئے ہڈیوں کا ایک شاپر اس کے ہاتھ میں تھما دیاتھا۔جس کو وہ بڑی خوشی خوشی اپنے گھر لے کر گیا اور ماں کو پکانے کو کہا۔دو گھنٹے لکڑیوں پر پکنے کے بعد جب ان ہڈیوں کا سوپ تیار ہوا تو خوشی خوشی سارے گھر نے اس کو دو دو گھونٹ پیا تھا۔بس وہ دن اور آج کا دن۔۔۔۔۔۔۔ اس کے منہ میں گوشت کا ایک ریشہ بھی نہیں گیا تھا۔

بس یہی ایک خیال اس کے دل میں سمایا ہوا تھا۔مگر جیب اس کی اجازت نہ دیتی تھی کہ وہ گوشت خرید سکے ۔ایک ہفتے سے وہ اپنی اس خواہش  کو پورا کرنے کے لیے تڑپ رہا تھا۔اور آج۔۔۔۔آج اس کو اپناخواب پورا ہوتے نظر آرہا تھا۔اگرچہ اس کا طریقہ  ناجائز ہی سہی مگر ایک غریب کی بے بسی کو ختم کرنے کے لیے مناسب تھا۔بھوک جب ہوش اڑا دیتی ہے تو صحیح غلط کی پہچان نہیں رہتی۔اس کے ساتھ بھی ایساہی ہوا تھا۔

روز کی طرح وہ اپنے مالک کے کتے کے آگے پاؤپاؤ کے گوشت کے ٹکڑے پھینکنے ہی والا تھا کہ ایک خیال بجلی کی سی تیزی سے اس کے دماغ میں آیا۔۔۔۔۔۔۔اس کےساتھ ہی اس کی آنکھیں چمکنےلگیں ۔اس نے اپنی آنکھیں چاروں طرف گھما کر دیکھا۔۔۔کوئی بھی اس کو نہیں دیکھ رہا تھا ۔ا س نے بجلی کی سی تیزی سے گوشت کا ایک ٹکڑا اپنی قمیض کے نیچے اندرونی جیب میں ڈال لیا۔مگر برا ہو اس کی قسمت کا عین اسی لمحے باہر کا گیٹ زور سے کھٹکھا،شاید کوئی مہمان آیا تھا۔گیٹ کے ساتھ والے کمرے سے چوکیدار تیزی سے گیٹ کھولنے نکلا۔۔۔۔۔۔۔اور اس نے اس کے یہ حرکت دیکھ لی تھی۔

مہمانوں کو اندر لانے کے بعد اس نے چپکے سے مالک کے کان میں اس کی حرکت کا ذکر کر دیا۔پہر مالک نے اس کو اندر بلا کر اس کی تمام مہمانوں اور ملازموں کےسامنے تلاشی لیاور اس سے گوشت کا وہ ٹکڑا برآمد کرلیا تھا۔گوشت کا وہ ٹکڑا زمین پر پھینک کر اس کے مالک نے پاس پڑا موٹا سا ڈنڈا اٹھا لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کو مرغا بننے کو کہا ۔مرغا بننے کے بعد مالک نے اس پر ڈندوں کی برسات کر دی ۔غریب کی کیا مجال کہ وہ مالک کی مار کے آگے اف بھی کر سکے۔گیارواں ڈنڈا کھانے کے بعد اس کے منہ سے ہائے اماں نکلا ۔اس سے پہلے کہوہ درد سے بےہوش ہو جاتا اچانک اس کی نظر گوشت کے اس ٹکڑے پر پڑی۔

وہ گوشت کا ٹکڑا ابھی بھی زمیں پر پڑا تھا اس کو دیکھے کے بعد اس کی آنکھوں میں پھر سے چمک آگئی۔ڈنڈے اب بھی اس کی کمر پر پڑ رہے تھے مھر اس کے منہ سے نکلنے والی اف بھی غائب ہو گئی تھی ۔اس کے بدلے اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی پیدا ہو گئی تھی ۔اورایک خوشی کا احساس اس کے دل میں پیدا ہو گیا کیونکہ گوشت کا وہ ٹکڑا مٹی سے اٹ چکا تھا ۔اور وہ جانتا تھا کہ مالک کا کتا بھی آخر اس کا ہی کتا ہے وہ مٹی سے اٹا گوشت کبھی بھی نہیں کھائے گا۔اس لیے گوچت کا وہ ٹکڑا کوئی بھی نہیں اٹھا ئے گا ۔گوشت کھا نے کھانے کی تڑپ اتنی بڑھ گئی تھی کہ اس کو ڈنڈونں کی تکلیف کا احساس بھی بھول گیااور وہ اکی بار پہر سوچنے لگا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آخر کا ستائیس ڈنڈوں کے بعد اس کا گناہ معاف کر دیا گیا۔وہ اپنی کمر کے درد کو بھولنےکی کو شش کر نے لگا ۔شام ہوئی مہمان رخصت ہوئے ،مالک ینی آرام گاہ میں سونے چلا گیا ۔تمام روکر اپنے اپنے کواٹرز میں چلے گئے۔چوکیدار گیٹ سے باہر جا بیٹھا ۔کتا سو گیا مگر گوشت کا وہ ٹکڑا جوں کا ٹو پرا رہا ۔اس کی چھٹی کا ٹائم ہو گیا ۔ایک بار پھر بڑی احتیاط سے اس نے ارد گرد یکھا اور گوشت کا ٹکڑا اٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لیا ۔۔۔۔۔اس با کوئی مہمان نہ آئے۔۔۔۔وہ خوش خوش اپنے گھر چلا گیا۔

گھر پہنچ کر اس نے گو شت کا وہ ٹکڑا اپنی ماں کو دیا اور بڑی بےتابانہ لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ لیں امی جان ۔۔۔جلدی سے اس گوشت کو پکا دیں ۔گوشت کھانے کو بڑا جی چاہ رہا ہے۔ماں نے حیران ہو کر پوچھا ۔۔۔۔۔تم  یہ گوشت لائے کہاں سے ہو۔ماں کی بات سن کر اس نے اپنی قمیض اوپر اٹھا دی۔ماں کمر کی حالت دیکھ کر سسک اٹھی۔گوشت کے اس ایک ٹکڑے کی اس نے بہت بڑی قیمت ادا کی تھی۔

About the author

meerab

Leave a Comment