صحت

تیزی سے بدلتا ہوا درجہ حرارت ،فضائی آلودگی ، موت کا پروانہ

coal-plant-pollution-epa-1.
Written by meerab

سردی کی شدت میں اضا فہ اور فضائی آلودگی دل کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے موت کا باعث بن سکتی ہےاور خراب ہوا میں سانس لینا کم از  کم دل کے امراض کو دعو ت دینے کا باعث بن سکتا ہے۔محقیقین کے مطابق ان گنت افراد ایسے حالات میں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں یا عارضہ قلب میں مبتلا ہو جاتے ہیں جب درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی آتی ہے یا  فضا ئی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔محقیقین کا کہنا یے کہ مسئلہ محض بدلتے ہوئے درجہ حرارت  کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ ایسی صورت حال میں اپنا بچاؤ کس طرح کرتے ہیں۔

ڈاکٹر گیڈ کاٹڑکی ٹیم نے پچھلے سال تین سو ایسے افراد کا معائینہ کیا جن کو درجہ حرارت میں سات ڈگری کمی کے باعث ہسپتال کا رخ کرنا پڑا ۔یہ افراد عارضہ قلب مین مبتلا تھے جن کو گرمی کے مقا بلے میں سردی میں عارضہ قلب میں شدت کا سامنا کر نا پڑا ۔اسی طرح فضا ئی آلودگی  میں اضافے کی صورت میں بھی مر یضوں کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔کیونکہ دونوں صورتوں میں دل خون کو پمپ کرنے کی صلاحیت کو کھو بیٹھتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہیا تو  مریض کا سانس رکنے لگتا ہے یا اس پر بیہوشی یا غشی طاری ہو جا تی ہے۔

ہمارے ملک میں فضائی آلودگی ایک انتہائی اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے اور اس میں کمی کا کو ئی امکان نظر نہیں آرہا  اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔لہذا اب ان مریضوں کو اپنےلیےاقدامات خود ہی کرنے ہونگیں  کیونکہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔لہذا پر ہیز علاج سے بہتر ہےکے مترادف  پرہیز ہی کرنا اچھاہے۔

About the author

meerab

Leave a Comment