ادب

جب ابلیس شیطان بنا

stock-photo-scary-portrait-of-a-devil-figure-in-hell-background-87086534
Written by meerab

انسان کی تخلیق سے پہلے فرشتے اور جن اللہ کی عبادت گزار مخلوق کی شکل میں موجود تھے۔فرشتوں کو اللہ نے نور سے پیدا کیا تھا اور جنوں کو آگ سے۔۔۔۔۔جب اللہ نے مٹی سے ایک ایسی مخلوق بنانے کا ارادہ کیا جو بااختیار  حثیت سے دنیا میں بھیجی جائےاور اسی اختیار کے غلط یا صحیح ہونے پر اس کے جنتی یا دوزخی ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔

فرشتے اور جنوں کی تابعداری کو آزمانے کے لیے اللہ نے ان سے کہا کہ جب میں آدم کی تخلیق کر لوں تو تم اس کو سجدہ کرنا۔فرشتوں اور جنوں پر یہ بات واضح تھی کہ یہ سجدہ عبادت کے لیے نہیں بلکہ ان کی تابعداری کو آزمانے کے لیے ہے اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اپنی انا کو ختم کر کے میرے حکم کو بجا لائے گا اور کون انانیت کا شکار ہو جائے گا۔جب اللہ نے آدم کو بنانے کا ارادہ کیا تو فرشتوں کے ذہن میں کچھ سوال ضرور تھے جو انہوں نے اللہ سے پوچھے،مثال کے طور پر وہ بااختیار مخلوق زمین میں فساد مچائے گی،خونریزی کرےگیمگر جب ان کو اپنے سوالوں کے جواب مل گئے تو وہ اللہ کے فیصلے سے مطمئین ہوگئے اور جونہی اللہ تعالی نے ان کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا فورابغیر کسی حیل و حجت کے سجدہ کرنے کو تیار ہو گئے۔

کوئی انا ،کوئی غرور اور کوئی تکبر آڑے نہیں آیا۔انہوں نے اس کو صرف اور صرف اپنے رب کا حکم جانا۔لیکن ابلیس جو کہ تمام جنوں کا سردار تھا تکبر کا شکار ہو گیا۔اور وہ یہ بھول گیا کہ وہ ایک کمزور ناری مخلوق  ہے جو کہ پوری کائنات کے رب کو انکار کر رہا ہے جبکہ کہ اس سے بر تر مخلوق فرشتوں نے حکم مان لیا ہے۔جب ابلیس سے اللہ نے یہ پوچھا کہ تم نے میرے کہنے پر آدم کو سجدہ کیوں نہیں کیا  تو اس نے جواب کہ اے رب تو نے اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے اور مجھے آگ سے ،میں اس سے برتر ہوں تو میں اس کو سجدہ کیوں کروں ۔قرآن پاک میں اس مکالمے کو اس طرح لیے بیان کیا گیا کہ اللہ تعالی یہ بات بتانا چاہتا تھا کہ بات برتر مخلوق کا نہیں تھا بلکہ وہ یہ بتانا چاہتا تھا کہ اس کی آزمائش میں کون پورا اترتا ہے اور کون نہیں۔اللہ تعالی کے سامنے سر کشی کر نے کی وجہ سے ہی ابلیس کو شیطان کہا جانے لگا جس کا مطلب ہے سر کش ،نافرمان اور حد سے گزرنے والا۔

اس وقت الیس کو اللہ تعالی سے معافی مانگ کر رجوع کر لینا چائیے تھا کیونکہ اللہ کو عاجز کرنے والا کوئی نہیں ۔لیکن وہ بھلا ایسا کیوں کرتا؟بغض اور حسد نے اس کی آنکھون پر پٹی باندھ رکھی تھی۔وہ اپنی سر کشی پر ڈٹا رہا یہاں تک کہ اللہ نے اس کو اپنے ہاں سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔اسی کے ساتھ ہی سورہ البقرہ میں حضرت حوا اور حجرت آدم علیہ کا واقعہ بھی بیان ہوا ہے جس میں اللہ نے ان کو جنت میں رہنے کا حکم دیا۔ان کو اجازت تھی کہ وہ جنت میں سے جو کچھ چاہے کھائیں پیں سوائے ایک درخت کے ۔جس کا پھل ان کو کھانے سے منع کیا گیا تھا۔یہ ان کی آزمائش تھی۔کچھ عرصے تک تو وہ اس درخت کے پاس نہیں گئے لیکن شیطان ان کو بہکاتا کہ اس پھل کے کھانے سے تم کو موت کبھی نہیں آئے گی ۔لہذا وہ شیطان کے بہکاوے میں آگئے اور اس درخت کا پھل کھا لیا۔لیکن جونہی ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا فورا اللہ سے معافی کے طلب گار ہوئے اور کہاربنا ظلمنا انفسناو ان لم ترحمنا لنکونن من الخاسرینّ

اے ہمارے پروردگار! بے شک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اور اگر تم نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم نقصان اٹھانے والے بن جائیں گے۔اللہ تعالی نے ان کی اس دعا کو قبول کیا اور ان کا معاف کیا۔اللہ کا ارشاد ہے کہ اس نے توبہ کو اپنے اوپر واجب کر رکھا ہے لیکن شیطان کو معافی مانگنے کی تو فیق نہ ہوئی۔بلکہ اس نے اللہ سے کہا کہ مجھے مہلت دے کہ میں تیرے ہی بنائے ہوئے انسانوں سے تیری جہنم کو بھر دوں ۔اللہ نے کہا کہ میں تجھے مہلت دیتا ہوں لیکن میرے نیک اور تابعدار بندے کبھی تیرے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔جو تیرے کہنے میں آئے گا وہ جہنم کا ایندھن بنے گا ۔اس دنیا میں اصل امتحان انا پرستی کا ہی ہے۔طبقاتی فرق کی وجہ سے ہم دوسرے لوگوں کو انسان نہیں سمجھتے اور اس کے ساتھ حقیرانہ اور دل توڑنے والا رویہ اختیار کرتے ہیں ۔

ذہانت ،خوبصورتی،دولت،اقتدار اور اولاد وہ چیزیں ہیں جن پر ہم ناز کر تے ہیں ۔ان میں سے کسی چیز پر ہمارا کوئی حق نہین ،اللہ نے اپنے بندوں میں تقسیم صرف اس لیے کی وہ ان کی آزمائش چاہتا تھاکہ کون اس کی عطا کردہ نعمتوں پر پورا اترتا ہےاور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے مزید اس کے آگے عاجزی وانکساری سے جھک جاتا ہے۔قرآن مجید میں چار عظیم بادشاہوں حضرت سلیمان۴،حضرت داؤد ۴،حضرت ذوالقرنین۴،اور حضرت یوسف۴ کا ذکر بیا ہوا ہے جنھوں نے اپنی ہر نعمت کو رب کا فضل کہا اور اس کے آگے سجدہ ریز ہوئے۔

 

About the author

meerab

Leave a Comment