بچے

جرا ئم پیشہ لوگوں سے بچوں سے حفاظت والدین کی ذمہ داری

Untitled
Written by meerab

ہر معاشرے میں اچھےبرے لوگ ہوتے ہیں ،ان کے مختلف روپ ہوتے ہیں اور یہ کسی بھی روپ میں آپ کے بچوں تک پہنچ سکتے ہیں ۔ان ذہنی بیمار لوگوں سے اپنے بچوں کو بچانا ہمارا فرض ہے

اخبارات آئے روز بچوں کے حوالے سے مختلف قسم کے اخبارات  سے بھرے رہتے ہیں ۔کہیں ان معصوم بچوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے ،کبھی جنسی تشدد کا شکار بنا لیا جاتا ہے اور کبھی ان کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔جس بچے کے ساتھ یہ حادثہ پیش آتا ہے ان کے والدین ان کے والدین پر کیا بیتی ہے اس کا اندازہ صرف وہ والدین ہی لگا سکتے ہیں۔

ہر والدین اپنے بچوں کو ایک محفوظ اورصحت مند معاشرے میں پروان چڑھانا چاہتے ہیں ۔تا کہ ان کے بچوں کو کسی قسم کی تکلیٖ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس مقصد کے لیے والدین پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔کیونکہ بچوں کو پیش آنے والے حادثات کے پیچھے کہیں نہ کہیں والدین کی غفلت کا ھاتھ لازمی ہوتا ہے۔یقیناً والدین جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتے لیکن کوئی نہ کوئی کمی ضرور اس کا نتیجہ بنتی ہے۔

والدین اپنی فطری محبت سے مجبور ہوتے ہیں اور یہ بات تصور کرلیتے ہیں کہ ان کے بچے کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہیں آسکتا ۔مگر یہ بات حقائق کے بالکل متضادی ہے ۔بچوں کو موجودہ حالات اور ممکنہ خطرات سے آگاہی ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنی معصومیت میں کوئی نقصان نہ اٹھا بیٹھیں ۔اکثر بچوں کو سکول سے اغوا کر لیا جا تا ہے ۔

عامر نامی ایک سات سالہ بچے کو سکول کے باھر انتطار کرتے ہوئے ایک جوڑے نے اغوا کرنے کی کوشش کی ۔اس نے بچے سے کہا کہ اس کی والدہ نے ان کو اسے لینے بھیجا ہے کہ وہ مصروف ہونے کے باعث نہیں آسکتی۔بچے کو ماں کی نصحیت یاد آئی کہ بیٹا کسی اجنبی کے ساتھ مت ادھر ادھر جانا۔ اس نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔اور واپس سکول کے اندر چلا گیا۔اس کے والدین نے اسے اجنبیوں پر بھروسہ کرنے سے منع کیا تھا ۔ورنہ اس کا نتیجہ کیا نکل سکتا تھا۔یہ آپ اور ہم اچھی طرح جانتے ہیں ۔

بردہ فروش بچوں کو بھلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔معاشرے میں ان کی تعداد کا اندزہ کگائیں تو شائد ان کی تعداد ہزاروں میں نکلے۔بچے انتہائی معصوم ذہن کے مالک ہوتے ہیں وہ ان لوگوں کے عزائم نہیں بھانپ سکتے اور جلدی ان کا نشانہ بن جا تے ہیں۔والدین کی یہ ذمہداری ہے کہ وہ بچوں کو سختی سے اس بات کا پابند کریں کہ وہ کسی اجنبی سے کوئی چاکلیٹ ۔ٹافی یا کھانے کی کوئی چیز مت لیں ۔اگر کوئی ان کو کہیے تو اس کو لینے سے صاف انکار کر دیں۔

بچوں کو ان لوگوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے کہ معاشرے میں یہ افراد موجود ہیں ان سے خوفزدہ ہونے کی بجائے ان کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔بچپن میں دی گئی تعلیم بچوں کے ذہن پر ہمیشہ نقش رہتی ہے۔وہ خطرات کو دور سے ہی دیکھ کر بھانپ لیتے ہیں اور اپنا بچاؤ کر لیتے ہیں۔

کن باتوں کا علم ہونا ضروری ہے

بچوں کو سب سے پہلے اس کا نام یا د ہونا چاہیے۔اس کو اپنے والدین کا نام اور گھر کا پتہ بھی یاد ہونا چاہیے۔گھر کا فون نمبراور ایڈریس اچھی طرح پتہ ہوں تاکہ اگر کبھی وہ گم ہو جائے تو اس کو پتہ ہو کہ اس کا ایڈریس اور فون نمبر کیا ہیں اور اس کو مدد کے لیۓ کس کو ب

کھیل کود کے لیے والدین کی ترجیح کھلی جگہ ہوتی ہے۔ایسے میں بچوں کو ہی سکھایا جانا چائیے کہ واپسی کے لیے اگر بچہ پیدل راستے کا انتحاب کرتا ہ تو اس کو غیر آبا د عمارتوں اور دکانوں سے دور رہیں ۔اگر کوئی اجنبی ان سے راستہ پوچھنے کی کوشش کرے تو وہ فورا انکار کر دیں۔کہ ان کو نہیں معلوم ۔بچے کو یہ بات بہت اچھی طرح ذہن نشین کرانی چائیےاگر کوئی شخص ان سے گھڑی ،پرس یا موبائل چھینے کی کو شش کرے تو وہ مزاحمت کرنے کی بجائے چیز ان کے حوالے کر دیں کیونکہ چیزیں تو پھر مل جاتی ہیں مگر زندگی جیسی قیمتی چیز دوبارہ نہیں ملتی۔

بچہ اپنے والدین سے سب سے زیادہ مانوس ہوتا ہے۔وہ یہ توقع کرتا ہے کہ وہ اس کے سب سے زیادہ غم گسار اور ہمدرد ہیں ۔لہزا والدین ہی کہ کر بری الزمہ نہیں ہوسکتے کہ وہ اپنی مصروفیت میں ٹائم نہیں نکال سکے۔والدین کو ہی بات معلوم ہونی چاہیے کہ ان کے بچے کے معمولات کیا ہیں ،وہ کہاں ٹائم گزارتا ہے۔اس کے دوستوں کے نام اور ان کے والدین کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہیے۔

بے شک والدین ہر وقت بچے کے ساتھ نہیں رہ سکتے مگر اس کی خبر گیری ضرور کر سکتے ہیں۔یہ بات طے ہے کہ اگر ہم  بچے کر بہترین ماحول اور تحفظ فرائم کریں گے تو نہ صرف اس کا بچپن خوبصورت اور بہترین ہوگا بلکہ اس کا مستقبل بھی روشن اور تابناک ہوگا۔وہ ایک کامیاب اور پر اعتماد زندگی گزانے کے قابل ہوگا ۔اور ایک پر اعتما شحص ایک کامیاب اور ترقی یافتہ معاشرے کو جنم دے گا۔

About the author

meerab

Leave a Comment