بچے

رحمدل لکڑہارا

images (1)
Written by meerab

ایک دن ایک لکڑہارا اپنی کلہاڑی سے شاہ بلوط کا درخت کاٹنے لگاٹھہر جاؤ اچانک ایک آواز آئی۔اس نے آواز کی طرف دھیان نہ دیااور دوبارہ درخت کاٹنے لگا۔ٹھہر جاؤ ۔تم ابھی مجھے نہ کاٹو۔ابھی تو میرا پھل بھی پک کر تیار نہیں ہوا ہے۔یہ سن کر لکڑ ہارا چیری کے چھوٹے سے درخت کی طرف چل دیاتاکہ اسے کاٹ لے۔مجھے چھوڑ دو میری شاخوں پرندے گانا گاتے ہیں ،اگر میں مر گیا تووہ سارے پرندے یہاں سے اڑ جائیں گے۔چیری کا درخت چلایا۔اس کی بات سن کر لکڑ ہارا انناس کے درخت کی طرف چل دیا۔مجھے مت کاٹو انناس کے درخت نے بھی التجا کی۔میں تمام موسموں میں سر سبز رہتا ہوں ۔ہم درختوں کے بغیر جنگل جنگل نہیں لگتا۔

لکڑہارے کو تمام درختوں پر ترس آگیا اور اس نے درخت کا ٹنے بند کر دیے اور ایک طرف بیٹھ گیا۔اچانک اس نے ایک بوڑھے کو دیکھا جس نے انناس کی چھال کا کوٹ پہنا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں سنہری چھڑی تھی۔

میں جنگل کا پاپ ہوں اور تمہارا شکر گزار ہوں کہ تم نے میرے بچو ں کی جان بخشی کی بوڑھے نے کہا۔مین تمہیں اس کے بدلے میں یہ جادو کی چھڑی دیتا ہون جو تمہاری ہر خواہش کو پورا کرے گی ۔مگر یاد رکھنا کہ حد سے زیادہ اس کا استعمال نقصان دہ ہو گا۔لکڑہارے نے چھری کو آزمانے کے لیے الک پہاڑ کی طرف کیا اور کہا کہ میرے لیے ایک شاندار عمارت تعمیر ہو اور پھر جا کے سو گیا ۔جب وہ صبح اٹھا تو اس نیے دیکھا کہ واقعی اس کے لیے ایک شاندارعمارت تیار تھی۔

اب لکڑیاں لکڑیارے کے لیے کپڑا بنتیں ،چھچھو ندر اس کے لیے کھیت میں ہل چلاتے،چونٹیاں اس کے لیے فصل اگاتں اور کاٹیں  درخت اس کو تازہ ہوا دیتے اور مکھیاں اس کو شہد فراہم کر تیں۔لکڑہارے کی اولاد نسل در نسل یہ چھڑی استعمال کرتی رہی۔ایک دن یہ چھری ایک بے و قوف کے ہاتھ لگ گئی۔جس نے چھری کو حکم دیا کہ وہ آسمان سے سورج کو زمین پر لے آئے تاکہ گرمی واپس آجائے۔سورج نیچے آنے لگا اور اس کی گرمی سے ہر چیز ابلنے لگی۔جادو کی چھری بھی پگھل گئی۔درخت سہم گئے اور اس دن سے وہ چپ چاپ رہنے لگے

About the author

meerab

Leave a Comment