ادب

ساتھ ساتھ نہیں پاس پاس رھئے

10170855_800613443297216_2395104099960875641_n
Written by meerab

گزرتے وقت کے ساتھ اپنی محبت کو کمزور نہ پرنے دیں

محبت ایک خوبصورت جذبہ ہے،جو محبت نہیں کرتا وہ زندگی کے ایک خوبصورت جذبے سے محروم رہ جاتا ہے۔ہم اپنے والدین ۔دوستوں ،رشتےداروں سے محبت کرتے ہین ۔لیکن آج ہم میاں بیوی کے درمیان محبت و الفت کی بات کر رہے ہیں۔یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو ذہنی ،جسمانی اور روحانی طور پر سب سے قریب ہوتا ہے۔اگر ان میں خوشگوار تعلقات ہوں  تو پورا گھرانہ سکون اور امن کا گہوارہ نظر آتا ہے۔

زندگی ان فلموں یا رسالوں کی کہانیوں کی طرح نہیں کہ ایک لڑکے کو لڑکی سے محبت ہوئی ،ان کی شادی ہوئی اور وہ ہنسی خوشی رہنے لگے۔بلکہ زندگی ایک ایسے اتار چڑھاؤ کا نام ہے جس مین خوشی بھی ہے اور غم  بھی۔اچھے اور برے حٓلات بھی آتے جاتے رہتے ہیں ۔اور میاں بوی دونوں کو مل کر ان حالات کا سامنا کر نا پڑ تا ہے۔کبھی یہ تعلق بہت مضبوط ہوجا ہے اور کبھی اس میں وقت کے ساتھ ساتھ دڑاریں پڑنے لگتی ہیں۔

محض ساتھ رہنے سے محبت میں اضافہ نہیں ہوجاتا ۔اس رشتے میں کمی اس وقت پیدا ہونے لگتی ہے جب انسان اپنے دوسرے معملات کو محبت پر ترجیح دینے لگتے ہیں ۔پھر ان کو ایک دوسرے سے بہت سی شکایات پیدا ہونے لگتی ہیں ۔اور وہ محبت جو شادی سے پہلے یا ابتدائی دنوں میں عروج پر ہوتی ہےکہیں گم ہوتی نظر آتی ہے۔محبت ایک گھڑی کی مانند ہے جس کو وقتا فوقتا چابی دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

شادی درحقیقت ایک معاہدے کا نام ہے جس میں میاں بیوی ایک ساتھ رہنے کا عہد کر تے ہیں ۔ایک چھت کے نیچے رہنے سے ایک دوسرے کی اچھائیوں کا بھی پتہ چلتا ہے اور برائیوں کا بھی۔ایسی صورت میں دونوں فریقین کو برداشت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔شادی سے پہلے محبت کا جذبہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی غلط باتیں اور خامیاں نظر انداز کر دی جاتی ہیں ۔ہر فریق اپنا اچھا تاثر ڈالنے کی کوشش کرتا ہےاور ایک دوسرے سے بہت سی توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں ۔شادی کے بعد جب ذمہداری پڑ تی ہیں  اور خامیاں کھل کر سامنے آتی ہیں تو خوابوں کے گھروندے ٹوٹنے لگتے ہیں۔

 

 میاں بیوی کے تعلقات کو خوشگوار رکھنا آسان بھی ہے اور دشوار بھی۔اس کے لیے کشادہ دلی اور برداشت سے کا لینا ہوگا۔اپنی انا کو قربان کرنا آسان نہیں مگر اپنے گھر کر جنت اور امن کا گہوارہ بنانے کے لیےاس کو قربان کرنا کوئی مشکل کام نہیں ،ویسے تو دونوں فریقین کو ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چائیے مگر ہماقرا معاشرہ عورتوں سے بالخصوص اس بات کی زیادہ توقع کرتا ہے کہ وہ اس معاملے میں زیادی سمجھداری سے کام لیں گی۔ان سے ہی قربانیوں کی امید لگائی جاتی ہے اور گھر میں پیدا ہونے والی دڑاڑوں  کا ذمہ دار ان کو ہی ٹھرایا جاتا ہے۔

موجودہ دور میں طلاق کی شرح بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین کی سوچ اور طرز ذندگی میں تبدیلی آگئی ہے،پہلے عورت گھر گرہستی تک محدود تھیں مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا نعرہ بلند نہیں ہوا تھا۔لہزا خواتین بری بھلی تمام باتیں برداشت کر جاتی تھیں بلکہ والدین اپنی بچیوں کو یہ نصحیت کر تے تھے کہ گھر سنبھالنا ان کی ذمہ داری ہے۔ان کو اپنے گھر میں گزارا کرنا ہے چاہے حالات کچھ بھی ہوں ۔لہذا وہ اپنے شوہر اور گہر کی ذمہ داریاں محبت اور شوق سے پوری کرتی تھیں ۔

موجودہ دور میں مہنگائی نے عورتو ں کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے ،ان میں5765588_0 تعلیم کا رحجان بڑھ گیا ہے۔اکثر خواتین ملازمت کے ساتھ ساتھ گھریلو امور بھی انجام دیتی ہیں ۔وہ کسی بھی طرح اپنے آپ کو مردوں سے کم نہیں سمجھتیں ۔ملازمت اور گھریلو امور کی انجام دہی کی وجہ سے ان کی ذمہ داریاں مردوں سے دگنی وہ جا تی ہیں۔اس لیے وہ توقع کرتی ہیں کہ ان کو بیویوں کے حقوق بھی ملین اور گھریلو امور میں مرد ان کا ہاتھ بھی بٹائیں ،مگ جب ایسا نہیں ہوتا تو تلخیاں جنم لے لیتی ہیں ۔

اس کے علاوہ اکثر خواتین کی مصروفیت کی وجہ سے مردنظر انداز ہونے لگتے ہیں اور یوں ان کے درمیان آہستہ آہستہدوری جنم لینے لگتی ہے۔دوسری بات بیوی اگر معاشی ذمہ داریاں پوری کرنی مین شوہر کا ہاتھ بٹا سکتی ہے تو شوہر کو بھی گھعیلو امور کی انجام دہی مین اس کا ہاتھ بٹانے میں کو ئی عا ر نہیں محسوس کرنی چاہیے۔ایک دوسرے کا خیال رکھنے سے محبت بڑھتی ہے۔قربت کا احساس ہوتا ہے۔میاں بیوی دونوں کو اپنے دن کا کچھ وقت ایک دوسرے کے لیے محصوص کرنا چاہیے۔اس سے باہمی بات چیت سے آپس کے مسائل حل ہوتے ہیں ۔ہلکا پھلکا مذاق گھر کے ماحول کو خوشگوار بناتا ہے۔احساسات کو دل کیں قید نہیں کرنا چائیے بلکہ اس کا زبان سے اظہار بھی ضروری ہے تاکہ آپ کی شریک حیات کو معکوم ہو کہ آپ کے دل میں اس کے لیے کی جذبات ہیں ۔

ہر فریق کے اپنی پسند و نا پسند ہوتی ہے حتی کہ جڑواں بچوں کی عادات میں بھی فرق ہوتا ہے۔لہذا دو فریق جب ایک ساتھ رہنا شروع کرتے ہیں  تو ان کی بہت سی باتیں ایک دوسرے کے متصادم ہو سکتی ہیں  چناچہ صبرو تحمل اور برداشت سے کام لیں ۔ ایک دوسرے کی مجبوری کو سمجھتے ہوئےبرداشت کرنے اور ساتھ ساتھ نظر آنے سے بہتر ہے کہالگ الگ مگر ایک دوسری کی خوشی سے کام کرتے نظر آئیں

جھگڑے اور مسائل زندگی کا حصہ ہیں ان حالات میں میاں بیوی میں محبت واتفاقکے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی مدد اور خیالات کو سمجھنے کی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔آپ کا ساتھ ایک جیتا جاگتا انسان ہے اس کی خامیوں کو نظر انداز کریں اور خوبیوں کو سراہیں ۔آپ کی ترجیحات الگ نہین ہونی چاہیے۔ایک دوسرے سے بہت زیادہ توقعات وابستہ مت کریں مایوسی ہونے کی صورت میں دکھ اور ہنی بوجھ ہوگا۔میاں بیوی کا رشتہ بہت خوبصورت ہوتاہے۔اس مین جتنا اعتماد ۔بھروسہ اور مضبوطی ہو گی زندگی اتنی ہی آسان اور پر سکون و خوشحال ہوگی۔

About the author

meerab

Leave a Comment