خواتین

غیر معمولی ماں کا صدارتی ایوارڈ

Mother with baby
Written by meerab

مصر کے صدر عبدالفتح الحسینی نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پردریائے نیل کے کنارے سڑکوں پر لوگوں اور غیر ملکی سیاحوں کے گرد آلود جوتے پالش کرنے والےایک چونسٹھ سالہ شخص ابو ہودا کو خود اپنے ہاتھوں سے غیر معمولی ماں ہونے کا اعزاز دیا یے۔

اس شخص کو ماٰں اور وہ بھی غیر معمولی ہونے کا اس لیے دیا گیا کہ وہ مرد نہیں بلکہ ایک عورت ہے۔اور عورت ہوتے ہوئے تیسسال کی عمر میں بیوگی سے لے کر چونسٹھ سال کے بڑھاپے تکیعنی اپنی عمر کے اکتالیس سال مردانہ روپ میں محنت مزدوری کے ذریعے اپنی اور اپنی بیٹی کی زندگی کو پالنے کا فریضہ عزت وآبروکے ساتھ پورا کرتی رہی اور بعض اوقات دندگی کی حد سے تجاوز کر جانے والی درندگی کا بھی مقابلہ کرتی رہی۔

ایک ایسے معاشرے اور ماحول میں جو مردانہ بھی ہے اور پدرانہ بھی اور اس معاشرے میں مردوں کو صف غالب سمجھا جاتا ہے۔سب لوگ یہ ہی سمجھتے تھے کہ  ابو ہو دا ایک مرد ہے اور وہ خود بھی ایک مرد ہونے کا تاثر دیتی تھی،مرد محنت کشوں کے ساتھ بیٹھی تھی،چلتی تھی ،مسجد میں نماز  ان کے ساتھ نماز ادا کر تی تھی۔اس نے یہ تا ثر اکتالیس سال جاری رکھا۔یہ کوئی آسان کام نہیںتھا۔خاص طور پر مردوں  کی عورتوں پر برتری کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے پسند ماندہ محنت کش معاشرے میں  اپنی جنسی صفت کو چھپانا اور وہ بھی اکتالیس سال  بہت ہی زیادہ مشکل اور ناممکن کام ہے۔

حیران کر دینے والی بات یہ ہے کہ ابو ہودہ کی اصل جنس کے انکشاف کے بعد اسے چار دہائیوں تک مرد سمجھنے والوں نے کسی قسم کے غصے کا اظہار نہیں کیابلکہ اسے ایوارڈ پانے پر مبارکباد  پیش کی۔مقامی میڈیا نے اس کو نمایاں طور پر شائع کیا اور اس کی تصاویر بھی جاری کیں ۔خدشہ تھا کہ محنت کش طبقہ اپنی حقیقت چھپانے کے لیے اس سے نفرت کا اظہار کرے گا یا اس کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

ایک انٹرویو میں ابو ہودہ سےپوچھا گیا کہ کیا وہ اپنا مردانہ روپ کو جاری رکھے گیتو اس نے جواب دیا کہ ج حالات اور روپ میں اس نے یہ روپ اختیار کیا اور اپنی زندگی  اور بیوگی کے صبر آزما دن گزارے ہیں ۔باقی ماندہ دن بھی اسی طرح گزر جائے گی۔اس نے اپنے محنت کش طبقے کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے اس کو کسی آزمائش میں نہیں ڈالا اور اس کے ساتھانسانی سلوک کو تر جیح دی۔

اس نے کہا کہ بیوگی  کے ابتدائی سالوں کو عبور کرنا مشکل کام تھامگر اپنی معصوم بیٹی کی پر ورش کے لیے اس کو ہمت کرنا تھیاور مدانہ روپ اختیار کیے بغیر یہ سفر عبور کرا مشکل کام تھا ،ابو ہودہ کے مطابق محنت کش طبقہ اس قدر بد اخلاق اور جنسی ہوس کا بھوکا نہیں جس قدر اس کو تصور کیا جاتا ہے۔

About the author

meerab

Leave a Comment