ادب

فیصلہ

article-1206285-060B698C000005DC-850_468x347
Written by meerab

رشیدہ رو رو کرہلکان ہو رہی تھی۔بیگم جتنا اسے دلاسہ دیتیں وہ اتنا ہی بلک بلک کر رونا شروع ہوجاتی۔دراصل بات ہی کچھ ایسی تھی۔رشیدہ ایک طویل عرصے سے شاید تیس یا پینتیس سال سے ان کے گھر میں کام کر رہی تھی۔اس کی حثیت گھر کے ایک فرد ہی کی تھی ۔وہ ایک انتہائی خدمت گزار،اور ایماندار خاتون تھی۔وہ اپنے تمام فرائض ایمانداری سے نبھاتی۔

رشیدہ کی نو عمری میں ہی شادی ہو گئی تھی جیسا کہ دیہاتوں میں اکثر ہوتا پے۔لیکن اس کی یہ شادی چند ماہ سے زیادہ نہ چل سکی۔چند ماہ کے بعد ہی اس کو طلاق ہو گئی۔طلاق کی وجہ کوئی بھی نہ جان سکا کیونکہ رشیدہ کی زبان پر تو جیسے قفل پڑ  گیا۔کچھ بولتی ہی نہ بس کھلی آنکھوں آنسو بہائی جاتی۔شائد اس کا خاوند کسی اور کو پسند کرتا تھا۔اس نے والدین کے دباؤ میں آکر شادی ےتو کر کی مگر چند ماہ سے زیادہ نہ چلاسکا۔اور رشیدہ کو طلاق دے کر اپنی من پسند جگہ پر شادی کر لی۔

رشیدہ کے بوڑھے ماں باپ یہ صدمہ نہ سہ سکے اور چند ماہ کے اندر ہی چل بسے۔رشیدہ کا بھری دنیا میں ایک بہن اور بہنوئی کے سوا کوئی نہ تھا ۔سو چپ چاپ بہن کے پاس آکر رہنے لگی۔بہن اور بہنوئی اس کی ہر ممکن دلجوئی کرنے کی کوشش کرتے لیکن رشیدہ کو اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ اس مہنگائی کے دور میں ان کا گزارہ مشکل سے ہوتا ہے۔سو اس نے چپ چا پ لوگوں کے گھروں میں کام شروع کر دیا۔

وہ انتہائی محنت اور لگن سے کام کرتی  سو وہ ان گھروں میں مستقل ہی ہو گئی۔اس کے بہنوئی کا کچھ عرصے کے بعد انتقال ہو گیا تو اس کی بہن اس کے ساتھ ماں باپ کے گھر میں آ کر رہنے لگی کہ کرایہ دینا ان کے بس کی بات نہ تھی۔اس کا بھانجا سلیم اب جوان ہو گیا تھا اور کام کاج بھی کرنے لگا تھا۔سو دونوں بہنوں نے مل کر اس کی شادی کر دی۔ان کا خیال تھا کہ سلیم ،کی بیوی گھر کے کام کاج میں ان کا ہاتھ بٹائے تو وہ کچھ آرام کر سکین گی کہ اب اس میں کام کرنے کی وہ ہمت باقی نہ رہی تھی۔ مگر سلیم کی بیوی یک انتہائی بد مزاج اور بد زبان عورت ثابت ہوئی۔رشیدہ کی بہن اب اکثر بیمار رہتی تھی اور سلیم کا یہ فرض تھا کہ وہ ماں کے لیے دوا کا بندوبست کرتا۔مگر اس کی بیوی اس کے ایسے کان بھرتی کہ وہ چند  منٹ ماں کے پاس بیٹھتا ۔اور رشیدہ کو ماں کی دوا کا کہہ کر اپنا ذمہ پورا کر لیتا۔رشیدہ خود ہی بہن کے لیے دوا کا انتظام کرتی ۔افسوس کے اس کی بہن نہ بچ سکی۔

بہن کی وفات کےبود رشیدہ جیسے اکیلی رہ گئی۔وہ تمام دن لوگوں کے گھروں مین کام کر تی اور جو پیسے ملتے وہ لا کر سلیم کی بیوی کے ہاتھ پر رکھ دیتی۔اور اس کے ساتھ وہ اس کا گھر کے کام کاج میں بھی ہاتھ بٹاتی۔اس کے بدلے میں سلیم کی بیوی نے اس کو رہنے کا ٹھکانہ دی دیا۔اور اگر کبھی دل چاہتا تو کھانا بھی پوچھ لیتی ورنہ رشیدہ رات کو بھوکی ہی سو جاتی۔دن کو تو وہ لوگون کے گھروں سے کھا لیتی تھی۔اب رشیدہ عمر رسیدہ ہو چکی تھی اور کام کرنا اس کے بس میں نہ رہا تھا۔ایسے میں  سلیم کی بیوی کے طعنے اس کا کلیجہ چھلنی کر دیتے۔

اور آج تو حد ہی ہو گئی پچھلے دو دن سے اس کے طبیعت خراب تھی اور وہ کام پر نی جا سکی تھی ۔سلیم کی بیوی نے طعنے مار مار کر اس کا برا حال کر دا تھا۔صبح جب وہ سو کر اٹھی تو سلیم کی بیوی نے اس سے پوچھا کہ وہ کام پر کیوں نہیں جارہی۔اس نے بتایا کہ اب اس سے کام نہیں ہوتا سو وہ کام چھوڑنے کا سوچ رہ ہے۔یہ سنتے ہی سلیم کی بیوی نے واویلا مچا دا گھر میں ایک تناؤ کی کیفیت پیدا ہوگئی۔جب ناشتے کا وقت آیا تو سلیم کی بیوٰی نے سلیم کے ساتھ مہنگائی کا رونا شروع کردیا۔۔بات بڑھ گئی اور اس کی بیوی نے سارا مورد الزام اس کوٹھرایا اور ہاتھ پکڑ کر گھر سے نکال دیا۔

اس کا اکلوتا بھانجا اس کی آہ و بکا سنتا رہا مگر ایک لفظ نہ بولا۔وہ بے چاری روتے دھوتے بیگم فرخندہ کے پاس آگئی،بیگم فر خندہ اس کی تمام باتیں سن کر حیران رہ گئیں وہ سخت پریشان ہو گئیں کیونکہ اپنے خاوند کی وفات کے بعد وہ بھی ایک عضو معطل بن کر رہ گئیں تھیں۔سوچ سوچ کر وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ رشیدہ کو اولڈ ہوم داخل کرا دیا جائے۔رات انہوں نے رشیدہ کو اپنے گھر قیام کرایا اور صبح  اولڈ ہوم گئیں جو کہ ساتھ والے بلاک میں تھا۔مالی کو ساتھ لے کر جب وہ اولڈ ہوم پہنچیں تو وہاں کے مناظر نے ان کے دل کو دہلا دیا۔وہاں ایک نہیں کئی شناسا چہرے تھے۔بیگم فرخندہ ایک پوش علاقے میں رہتی تھیں ۔اس علاقے میں زیادہ تر بنگلے بزنس میں یاآفیسرز کے تھے۔بیگم شیراز کو وہ کیسے بھول سکتی تھیں۔ان کی ان کے ساتھ اچھی خاصی دوستی تھی۔

وہ ایک طویل عرصے تک ان کی ہمسائی رہیں تھیں ۔ان کے خاوند ایک بیر سٹر تھے جن کا شمار شہر کےHappy family کامبا ب بیرسیٹرز میں ہوتا تھا۔ان کے تین بیٹے تھے بے خد قابل اور فر مانبردار۔دس سال پہلے وہ لوگ کہیں اور شفٹ ہوگئے تھے۔آج وہ ان کو یہاں د بکھ کر حیران رہ گئیں تھیں ۔رشیدہ کو اولڈ ہوم میں داخل کرانے کی کاروائی مکمل کرنے کے بعد وہ میگم شیراز کے پاس آ پہنچیں  اور ان کے حالات دریافت کرنے لگیں ۔میگم شیراز ہمدردی اور دوست کو پا کر نمدیدہ ہو گیئں اور اپنا دل کھول کر دیا۔

شیراز صاحب کی اچانک موت کے بعد جیسے وہ اجڑ گیئں ۔پہلے پہل تو بیٹے اور بہوؤں نے خوب خدمت کی ۔لیکن جلد ہی یہ راز کھل گیا کہ ان کو جائیداد کا لالچ ہے۔مسٹر شیراز نے بیگم کو کبھی زمانے کی ہوا نہ لگنے دی تھی ۔اور کسی بھی قسم کی پر یشانے سے بچنے کے لیے ایک شاپنگ پلازہ اور کوٹھی ان کے نام کر گئے تھے۔اب بچے وہ اپنے نام کرانا چاہتے تھے ۔وہ ماں کو طرح طرح کی ترجیحات پیش کر رہے تھے۔کہ آپ کہاں دفتروں کے چکر کاٹیں گی  یہ میرے نام کر دیں ۔پراپرٹی تو آپ کی ہی رہے گی بس آپ دفتری کاروائیوں سے بچ جائیں گی۔بیگم شیراز زمانے کی چالاکیوں سے بالکل بے خبر اور محصوم تھیں سو ان کی باتوں میں آکر نہ صرف یہ جائیداد بلکہ والدین کی طرف سے ملنے والی جائیداد بھی ان کے نا م کر دی۔

پھر آہستہ آہستہ رویے تبدیل ہونے لگے اور  یہ تبدیلی گہری ہوتی گئی۔وہی بیٹےجو ماں کے بغیر رہ نہsad-unhappy-older-person سکتے تھے کئی کئی دن ملتے نہ ۔مصروفیت کا بہانہ بنا کر سرک جاتے ۔اور یہ رویہ تکلجف دہ ہو گیا۔پھر تینوں بھائی علیحدہ ہو گئے ۔اور ماں کے بارے میں ان میں تکرار رہنے لگی۔کہ کیا ماں میری ی ذمہ داری ہے۔کیا ہم ہی رہ گئے ہیں دوسرے بھی تو ہیں ۔وہ بھی رکھیں ۔بڑی بہو نے یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ معیز اور حماد بھی تو آپ کے بیٹے ہیں ۔جائیں ان کے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انہوں نے لاکھ ان کی منت سماجت کی کہ ان کو ان کا گھر نہیں معلوم ۔وہ کیسے جائیں ۔لیکن بہو بیگم نے ایک نہ سنی اور دروازہ بند کر لیا۔وہ روتی ہوئی سڑ ک پر جا رہی تھیں کہ شدت غم ْسے بیہوش ہو گئیں ۔کسی ہمدرد راہ گیر نے ترس کھا کر ہسپتال پہنچادیا۔ہوش میں آئیں تو ہسپتال والوں نے گھر کا  ایڈریس پوچھا تو انہوں نے نم آنکھوں  سے کہا کہہ ان کا کوئی گھر نہیں  میں بے آسرا ہوں ،ہسپتال والوں نے ان کو اولڈ ہوم پہنچا دیا۔۔بیگم فرخندہ نے دکھی دل سے ان کی تمام کہانی سنی  ان کی آنکھیں کھل چکی تھیں ۔ان کا بھی آج کل کم و بیش یہی حال تھا۔انہیں اپنے بیٹوں کے چہروں پر بیگم شیراز کے بیٹوں کے چہرے نظر آنے لگے۔

ایک دن بیگم فرخندہ کی طبیعت خراب تھی۔سر میں شدید درد اور بخار تھا۔بڑا بیٹا آفاق ففتر سے واپس آیا اور ماں کو سلام کرنے آیا ۔ماں کا لال چہرہ اور سرخ آنکھیں ان کی طبیعت  کی عکاسی کر رہی تھین ۔مگر بیٹے نے سر سری سا حال پوچھا  اور کمرے سے نکل گیا۔اگلے دن بخار مزید تیز ہو گیا تو کہنے لگا کہ کوئی ٹیبلٹ لیں ٹھیک ہو جائیں گیئں۔لیکن اسی دن بیوی کے معمولی سے سر درد پر اس کو فورا ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔

ایک بار ان کے پوتے منیب کے سکول میں کسی فیسٹول کا انعقاد ہوا۔تمام بچے اور بہو جانے کو تیار تھے ۔انہوں نے سر سری سے لہجے میں پوچھ لیا کہ کس قم کا فنکشن ہے تو بیٹے نے بیگانے سے لہجے میں کہا کہہ اس میں صرف بیوی بچوں کو مدعو کیا گیا ہے۔جبکہ ان کا جانے کا کوئی ارادہ ارادہ نہ تھا اور ان کا بیٹا یہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ ان کی ماں شور اور ہنگامے سے گبھراتی ہے۔بیٹے کے رویے نے ان کو دل برداشتہ کر دیا۔پہلی بار ان کو احساس ہوا کہ وہ بیٹے کے لئے عضو معطل ہیں ۔وہ کبھی بیٹے اور بہو کے معاملات میں مداخلت نہ کر تی تھیں ۔لیکن اگر کبھی بچوں کی انتہائی بد تمیزی پر سرزنش کر دیتی تو بہو اور بیٹا اپنے بچوں کی حمایت کرتے ۔

یہ سب باتیں بلکہ اور بھی بہت سی باتیں سوچ کرانہوں نے ایک فیصلہ کیا  اور اسے عملی جامعہ پہنانے کاresidential-care-021 ارادہ کیا ۔بیٹوں نے جائیداد کو اپنے نام کر نے کی کوشش کی ۔مگر انہوں نےانہیں بے دخل کر کےاپنی عالیشان کوٹھی کو اولڈ ہوم میں تبدیل کر دیا ۔اور یہ فیصلہ کر کے وہ بہت مطمئین تھیں ۔

About the author

meerab

Leave a Comment