بچے

لالچ راس نہیں آتا

download
Written by meerab

کسی گاؤں میں ایک لالچی بوڑھی عورت رہتی تھی جو کہ انتہائی بد مزاج  اور  کنجوس تھی۔کوئی بھی اس کو پسند نہیں کر تا تھا۔گاؤں میں یہ بات مشہور تھی کہ وہ بہت امیر عورت ہے یہاں تک کہ گاؤں کے نمبرادار سے بھی زیادہ دولت اور سونا اس کے پاس ہے۔اس کے باوجود وہ اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجا ئے ہر وقت اپنی غریبی کا رونا روتی رہتی تھی۔کچھ لوھوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گھر میں گھڑا کھود کر اس میں دولت جمح کر تی ریتی ہے۔یہ خبر ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک پھیل گئی۔گاؤں کے لوگ اس بات کی حقیقت جاننے کے لیے اس سے بات چیت کرنا چاہتے تھے مگر وہ کسی کو خاطر میں نہ لاتی۔

ایک دفعہ بڑھیا کو خبر ملی کہ گاؤں کے چوپال میں ایک مداری اپنا تماشہ دیکھانے آیا ہے وہ بھی تماشہ دیکھنے  گئی ۔مداری نے منتر پڑھا تو اس کے ہاتھ میں پیسے آگئے۔پھر مداری نے لوگوں سے کہا کہ وہ ایک روپے کے دو روپے بنا سکتا ہے۔بچوں نے مداری کو پیسے دیے اس نے سو سے تین اور تین سے چار روپے بنا دیے۔اس طرح اس نے رقم کو دگنا سے تین گنا اور چار گنا بنا دیا۔مداری کے کمالات دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔

بڑھیا نے جادو گر سے کہا کہ کیا تم مجھے یہ جادو سکھا  سکتے ہو میں تمہیں ڈھیر سارے روپے دوں گی۔جادو گر نے کہا کہ تم مجھے اپنے گھر لے چلواور مجھے روپے دو میں ساری رات منتر پڑھوں گا تمہاری رقم صبح تک دگنی ہو جا ئے گی۔بڑھیا نے اس کو پچاس ہزار روپے دیے اور مداری ایک کمرے میں بیٹھ کر منتر پڑھنے لگا ۔صبح تک مداری کی آواز آنی بند ھو گئی۔بڑھیا مداری کے کمرے میں گئی تو وہاں نہ تو مداری تھا اور نہ ہی رقم ۔دروازہ بند مگر کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔بڑھیا سارا ماجرا سمجھ گئی اور زور زور سے رونے لگی مگر کوئی بھی شخص اس کے پاس ہمدردی کو نہ آیا ۔اس طرح بڑھیا کو اپنے لالچ کی سزا مل گئی۔

About the author

meerab

Leave a Comment