خواتین

مشترکہ خاندانی نظام

happy-family-on-the-floor
Written by meerab

مشترکہ خاندانی نظام کی اپنی خوبیاں اور خامیاں ہیں ۔اور ان ہی کی روشنی میں لوگ ان میں سے کسی ایک نظام کا انتحاب کرتے ہیں ۔

مشترکہ خاندانی نظام میں سب سے بڑی خوبی باہمی اتفاق اور یگانگت ہے ۔اس نظام کے تحت افراد کو بزرگوں کی شفقت اور محبت میسر آتی ہے۔گھر کا سربراہ اپنے گھر سے باہر جاتے وقت مطمین ہوتا ہے کہ اس کی فیملی ایک محفوظ  ہاتھوں میں ہے۔اس خاندان کے اندر افراد معاشی طور پر ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں ۔بچوں کو بزرگوں کی شفقت اور محبت میسر ہوتی ہے۔خوشی اور غمی میں ایک دوسرے کا سہارا میسر آجاتا ہے۔جس سے غم کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔اور خوشیاں دوبالا ہو جاتی ہیں ۔

اس کے بر عکس اگر ہم مشترکہ حاندانی نظام کی خامیوں پر نظر ڈالیں تو سب سے پہلے تو انسان کی آزادی سلب ہو جاتی ہے۔نہ تو کوئی فرد اپنی مرضی سے کوئی کام کر سکتا ہے اور نہ کو ئی فیصلہ ۔اسے ہر کام میں دوسروں کی رائے کا خیال رکھنا پڑتا ہے ۔اور بہت سے حالات میں انے فیصلے کو پس پشت ڈالنا پڑتا ہے۔چاہے وہ کتنا ہی صحیح کیوں نہ ہو

اس نظام کی ایک اور بڑی خامی یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ خود نہیں کر سکتے ۔آپ کو ہر فیصلے میں دوسروں کے مر ہون منت ہونا پڑتا ہے۔بعض اوقات آپ کو دوسروں کی خاطر وہ فیصلہ بھی کرنا پڑتا ہے جو کہ آپ کے بچوں کے مزاج کے خلاف ہوتا ہے اور یہ بات والدین اور بچوں کے درمیان ایک بہت بڑی دڑاڑ بن سکتی ہے۔بچے آپنے والدین کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں اور وہ اس بات کو اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں کہ والدین ان کے لاڈ اور نخرے اٹھائیں مگر بزرگ اور گھر کے دوسرے افراد  کے فیصلے کے آگے ماں اور باپ کا چپ ہو جانا اور ان کی بات کومان کر بچوں کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرنا ایک بہت بڑے کنفیوژن کو جنم دے سکتا ہے۔

کم کمائی والے افراد کے لئے مشترکہ خاندانی نظام میں بہت فائدہ ہے ۔وہ اس نظام کا بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ خاندان کے تمام افراد مل کا گھر کا بجٹ چلاتے ہیں تو ان کے حصے میں تھوڑا آتا ہے اور بچت ہو جاتی ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ افراد جو بھر پور کمائی کرتے ہیں وہ اپنی کمائی کا بھر پور فائدہ نہیں اٹھا سکتے ان کی کمائی کا تمام حصہ مشترکہ ہونے کے باعث وہ اپنے اہل و ایال پر علیحدہ سے خرچ نہیں کر سکتے۔

اس نظام کا ایک اور نقصان ایک دوسرے کی بے جا تقلید ہے ۔خاندان کے بیشتر افراد ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ان اشیا پر بھی پیسہ خرچ کرتے ہیں جن کی ان کو ضرورت نہیں ہوتی،مگر چونکہ دوسرے افراد نے وہ چیز خریدی اس لئے وہ ان کو ملنی چائیے چاہے وہ ان کے لیے بے کار ہی کیوں نہ ہو۔ایسی صورتحال میں بھر پور کمائی کرنے والے فرد کے اہل خانہ کے ساتھ خوب ناانصافی ہوتی ہے جبکہ کم کمائی والے افراد کے اہل خانہ کی موج۔اور اس کی وجہ سے وہ افراد ترقی کے لیے زیادہ کوشش نہیں کرتے۔اور زندگی ایک سست روی سے چلتے رہتی ہے۔

اس نظام کی ایک اور بڑی خرابی جو سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ آغاز جوانی میں لڑکوں اور لڑکیوں کا آزادانہ میل جول بہت سی اخلاقی برائیوں کو جنم دیتا ہے اور بعض اوقات اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔

اس تمام گفتگو کے بعد یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مشترکہ کاندانی نظام میں بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں جو کہ اس کے فوائد کے مقابلے کم ہیں۔بہت سے لوگ اپنی روایات یا والدین کے سامنے مجبور ہونے کے باعث مشترکہ نظام میں رہنے کو تر جیح دیتے ہیں جبکہ کہ ان کے بیوی بچے اس نظام سے نکلنے کی کو شش کرتے ہیں  ۔اور یہ صورتحال ایک گھمبیر تصادم کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔لیکن اپنے گھر کو بچانے کے لیے کوئی درمیانی راہ نکالنی چائیے اور اگر آپ کو یہ لگے کی الگ رہنا خاندان کی بقا کے لیے بہتر ہے تو اس کو اپنانے میں کو ئی شرم یا جھجک نہیں محسوس کرنی چاہیے ،کیونکہ آپ کا خاندان بہر حال آپ کی اولین ذمہ داری ہے۔

About the author

meerab

Leave a Comment