بچے

ٹی وی کو بچوں کا دشمن نہیں دوست بنائیں

IMG_6947-1024x768
Written by meerab

شائد ہی کو ئی گھر ایسا ہو جہاں والدین اور بچوں کے درمیان ٹیوی دیکھنے کے حوالے سے بحث و تکرار نہ ہوتی ہو۔اکثر مائیں اس بات سے پریشان رہتی ہیں کہ ان کے بچے ٹی وی میں زیادہ اور پڑ ھائی میں کم دلچسپی لیتے ہیں ۔بچوں کی ٹی وی دیکھنے کی عادت کو کم کرنے کے لیے والدین کئی حربے آزما چکے ہیں۔یہاں دو قسم کے طبقات پائے جاتے ہیں ایک جو ٹی وی کو بچوں کا دشمن قرار دیتا ہے اور دوسرا اس بات کو غلط قرار دیتا ہے۔یہاں ان دونوں طبقات کے دلائل کی روشنی مین کسی نتیجے میں پہنچنے کی کوشش کر تے ہیں ۔

آج کی تیز رفتار سائینسی  ترقی نے انسان کو جہاں اور بہت سی حیران کن ایجادات سے نوازا ہےان میں ٹی وی بھی ایک یے ۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی ایک صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔خاص طور پر ڈش اور کیبلنے دنیا بھر کے چینلز تک ناظرین  کی رسا ئی کو ممکن بنا دیا ہے۔بہت ہی کم پیسوں میں دنیا کے مختلف مما لک میں کیا ہو ریا ہے آرام سے دیکھا جا سکتا ہے۔مختلف چینلز چو بیس گھنٹے اپنی نشریات جاری رکھتے ہیں آپ اپنی مرضی کے چینلز کا انتحاب آرام سے کر سکتے ہیں ۔

مگر عام طور پر ہی با ت دیکھنے میں آئی ہے کہ بڑوں کے مقابلے میں بچے ٹی وی دیکھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔بچوں کی فر صت کا بیشتر وقت ٹی وی دیکھنے میں ہی گزرتا یےاور والدین یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ ٹی وی دیکھنا ان کے لیے ٹھیک نہیں ۔ٹی وی کو بچوں کا دشمن قرار دینے والے اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ بچوں کی عمر کے ابتدائی پانچ سال ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں ۔اس عمر میں ان کی مشاہداتی حس بڑی تیزی سے کام کرتی یے۔اگر اس عمر میں وہ اپنا زیادہ تر وقت ٹی وی کے سامنے گزاریں گے تو ان کی شحصیت پر بڑا اثر پڑے گا ۔بعض اوقات بچے اس کا اتنا ھہرا اثر قبول کرتے ہیں کہ اس کا اثر ان کی تمام زندگی پر رہتا ہے۔

اس طبقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچوں کا ٹی وی دیکھنا ان کی تعلیم پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔وہ بیشتر ایسے 14IN_TELEVISION_jpg_539f مناظر دیکھ لیتے ہیں جو ان کی عمر کے بچوں کے لیے منا سب نہیں ہوتے ۔یہ منا ظر ان کے فطری تجسس کو ابھارتے ہیں اور ان کا ذہین کشمکش کا شکار ہو جا تا ہے اور ان کا دھیان تعلیم سے ہٹ جا تا ہے۔کچھ ماہرین تو بڑے وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ ٹی وی بچوں میں ضد،کاہلی،کام چوریکے رحجانات پیدا کرتا ہے۔پر تشدد پوگرام بچوں میں غیر اخلاقی سرگر میاں پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔

اس کے بر عکس دوسرے طبقے کا کہنا ہے کہ لوگوں کے ٹیوی کے بارے میں خدشات بےبنیاد ہیں ۔ٹی وی بچون کے ذہنوں کو زنگ آلود نہیں ہونے دیتا ۔وہ کہتے ہیں کہ اس بات کا انحصار والدین پر ہے کہ وہ ٹی وی کو ان کے لیے فائدہ مند بنائیں۔وہ بچوں کے لیے ایسے پروگراموں کا انتحاب کریں جو ان کی عمر  کی مناسبت سے تفریحی اور معلوماتی ہو۔ان ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی وی کا ریموٹ کبھی بچوں کی دسترس میں نیں ہونا چاہیے۔ٹی  وی ایسی جگہ پر ہونا چاہیے جہاں آپ والدین موجود ہوں ۔

ٹی وی دیکھنے کے اوقات مقرر کیے جائیں اور اس پرسختی سے عمل کیا جائے اور یہ اوقات ان کی پڑ ھا ئی سے متصاد نہ ہوں۔اس گروہ  کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پیپرز  کے دنوں میں بچون کے ٹی وی پر مکمل پا بندی ہو نی چاہیے اور ان کو یہ بات آرام سے سمجھائی جائے کہ ان کے لیے کیا ضروری یے کیونکہ اس عمر کے بچوں کو اپنے اچھے برے کی پہچان نہیں ہوتی۔ٹی وی دیکھنے کے جو اصول و ضوابط بنائےجائیں ان پر سختی سے عمل کیا جائے۔بچوں کو اس بات کا احساس دلانا پڑتا یے کہ معاشرے میں رہ کرکچھ اصول و ضوابط پر وعمل کرنا پڑتا ہے ۔ٹی وی کے پروگرام کا انتحاب کرتے وقت پوری فیملی کی دلچسپی کا خیال رکھنا چاہیے۔۔

تاہم یہ کہنا درست ہے کہ ٹی وی ایک جادوئی پٹارہ ہے جس کے اندر مثبت اور منفی دونوں پہلو مو جود ہیں ۔ٹی وی آپ کو دنیا بھر ے منسلک رکھتا ہے۔زندگی میں ایسا ممکن نہیں کہ آپ حادثے کے خوف سے اپنی گاڑی کو سڑک پر نہ لائیں ،یا جہاز پر سفر نہ کریں ۔حادثے کے خوف سے گھر کے اندر رہنا ممکن نہیں ۔ اسی طرح ٹی وی کے نقصان کے خوف سے اس کو بند کرنے کی بجائے اس کے مثبت پہلو سے فائدہ اٹھانا بہتر ہے

About the author

meerab

Leave a Comment