صحت

کان کی صفائی میں احتیاط بر تیں

cleaningearwax
Written by meerab

عام طور پر لوگ چائیے وہ کسی بھی طبقے کے ہوں اپنے کان کی صفائی  کو بہت ہی کم اہمیت دیتے ہیں۔اگر کسی کو کان میں تکلیف ہو یا صاف کرنے کا خیال بھی آجائےتو وہ بازار میں موجود کاٹن بڈ یا ماچس کی تیلی کو روئی لگا کر کان صاف کر لیتا ھے۔اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کان کو صاف کر لیا ہے۔مگر کیا واقعی ایسا ہے؟

کے سرجن  ENTحال ہی میں کان کی تکیف میں مبتلا ایک شخص  نے درد کی شدد سے مجبور ہو کر جب سے رابطہ کیاتو اس کے کان کی حا لت بہت خراب تھی۔مریض کے مطابق دیگر بہت سے لوگوں کی طرح وہ بھی اپنے کان کی صفائی کے لئے بازار میں موجود کاٹن بڈ یا خود ہی تیار کردہ ما چس کی تیلیوں سے اپنا علاج کرتا رہا ہے۔لیکن اس کے باوجود گزشتہ چند ماہ سے اس کے کان میں مستقل درد رہنے لگا ہےاو ر اس کی شدت میں اضافہ ہوتا  چلا گیا ہے۔مو صوف نے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر مختلف ادویات بھی استعمال کی ہیں مگر کوئی فرق نہں پڑا۔اور جب کان کی تکلیف برداشت سے باہر ہو گئی تو موٖوف نے ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کا سوچا۔

 حقیقت یہ ہے کہ قدرت نے کان میں صفائی کا خود ساختہ نظام رکھا ہےجس کے تحت کان کے اندر خود بخود دو گلینڈز ایک خاص قسم کا مومی موادیا چکنائی جسے ہم ویکس کہتے ہیں خارج کر تے ہیں۔جو کان میں موجود ائیر ڈرمزیعنی کان کے پر دے کو خشک  ھونے سے محفوظ رکھتا ہے کاٹن بڈ یا روئی کے استعمال سےیہ چکنائی کان کے پردے تک نہیں پاتااور وہ خشک ہونے لگا ہےاور کان میں درد یا تکلیف شروع ہو جا تی ہے۔

اس کے علاوہ کان کی تکلیف کی ایک اور وجہ کان کے گلینڈز میں سے کسی ایک میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔جس کے باعث کان کے پردے پر براہ راست اثر پڑتا یےاور کان میں درد کی تکلیف مستقل رہنے لگتی ہے۔ایسی صورت میں اگر کسی ماہر سرجن کے پاس جا کر باقاعدہ صفائی نہ کرائی جائے تو قوت سماعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے

کان کے ایسی حالت تک پہنچنے کی صورت میں ماہر سرجنکان میں موجود اضافی چکنائی کو سرنجنک یا کان کی دھلائی کے ذریعے صاف کر تا ہے۔لیکن خیال رہے کہ اس طرح کا کوئی عمل خود نہ کر نے کی کو شش کر یں کیونکہ آپ کی ذرا سی بے احتیاطی آپ کے کان کی تکلیف میں کمی کی بجائے اضافے کا باعث بن سکتی ہےاور آپ کو ہمیشہ کے لیے قوت سماعت سے محروم کر سک

About the author

meerab

Leave a Comment