بچے

fazool karashفضول خرچ

Chittagong 355-X2
Written by meerab

ایک بچے کی انوکھی اور دلچسپ داستاں

میری بستی کی صبح مرغوں کی بانگوں اورچڑیوں کی چہکاروں سے ہوتی ہے۔چھوٹا بڑا ہر کوئی چوکس نظر آتا ہے۔گویا کسی محاذ جنگ کی تیاری ہو رہی ہو۔میں یعنی دھامو(چھ سالہ)بھی اسی بستی کا حصہ ہوں ۔لیکن صبح سویرےاتنا چوکس نظر نہیں آتا جتنا کہ بستی کے باقی بچے۔آج بھی اپنی مندی مندی آنکھوں سے میں نے درخت پہ بیٹھی چڑیوں کو گھورا۔کمبخت کہیں کی،بس اپنا ہی راگ بولے جا رہی ہیں ،جب بھی میرا خواب ختم ھونے والا ہوتا ہے یہ درمیان میں ٹپک پڑتی ہیں۔خیر ان بیچاریوں کو کیا معلوم کہ میں سوتے میں ہی نہیں جاگتے میں بھی خواب دیکھتا ہوں،انہیں کیا معلوم کہ خواب و خیال کے لحاظ سے میں جس قدر مالا مال ہوں ،اتنا شاید کوئی بھی نہیں ۔یہ تو صرف اتنا جانتی ہیں کہ میرا تعلق ایک مفلس بستی سے ہے۔

اپنی پلاسٹک کی چپل پیروں میں ڈال کر میں چڑیوں کی بے وقوفی پر ہنس دیا۔نلکا چلا کر منہ پر پانی کے دو چار چھینٹے مارنے کے بعد میرا رخ باورچی خانے کی طرف تھا۔اینٹوں  سے کھڑی کی گئی دو دیواروں والے باورچی خانے کے سامنے ایک میلی سی چادر لٹکی ہوئی تھی۔میرے سات عدد بہن بھائی باورچی خانے کے سامنے گول دائرے کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے۔یہ روز کا معمول تھا۔میں جانتا تھا کہ وہ سب ناشتے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ان میں سے ہر کوئی باری باری اٹھتا اورمیلی چادر ہٹا کر اندر جھانکنے کے بعد واپس آجاتا۔جس کا مطلب تھا کہ ناشتہ ابھی تیار نہیں ہوا۔پھر اچانک اماں کی آواز آئی

آکر اپنی اپنی چائے اٹھا کر لے جاؤ ،مگر انسان کے بچے بن کر آنایہ کھانا پکانے کی جگہ ہے کوئی بھینسوں کا باڑا نہیں ہے۔اس کے ساتھ ہی ہم سب نے دوڑ لگا دی۔ہر کوئی اپنی عمر کے لحاظ سے بھاگا تھا اور چائے تک پہنچا تھا۔یہ دنیا ہے یہاں بھی ہر کوئی بھاگ رہا ہے۔نفسا نفسی کا عالم ہے۔باپ نے بیٹے سے اور بیٹے نے باپ سے دوڑ لگا رکھی ھے۔جیت اسی کے مقدر میں ہوتی ہے جو طاقتور ہو۔ایسے ہی میرا بڑا بھائی پہلے بھاگا تھا اور سب سے پہلے چائے اس نے اٹھائی،پھر پینو(پروین)نے اور پھر میں یعنی دھامونے۔پھر چھوٹے بہن بھائی پہنچے مگر بعد میں۔میں بھی جیت گیا تھا تیسرا نمبر ہی سہی مگر جیت تو جیت ہی ہو تی ہے نہ اس کا مطلب ہے کہ میں بھی طاقت ور ہوں۔

دودھ کم اور پانی زیادہ والا مائع اندر انڈیلتے  ہوئے میں ایک بار پھر ہنس پڑا۔پھر جیسے ہی پیالہ ختم ہوا میرے خیالوں کا تسلسل بھی ٹوٹ گیا۔ہم سب اپنی جھگیوں سے کچھ دور اینٹوں کے بھٹے کی طرف جا رہے تھے۔جہاں چھوٹے بڑے کو اپنے اپنے ہاتھوں کا ہنر آزمانا تھا۔بھٹے کے ایک طرف پکی سڑک تھی ۔جہاں سے بسیں ،رکشے اور گاڑیان گزرتیں۔کام کرتے کرتے میری نظر اچانک سڑک پر پڑی جہاں سفید کپڑوں میں ملبوس دو بچے سائیکل پر سوار سکول جا رہے تھے۔مجھے ایسا لگا جیسے ان میں سے ایک بچہ میں خود اور دوسرا میرا دوست ہے۔ہم با تیں کر تے جا رہے ہیں ،گھر کی ،سکول کی،دوستوں کی غرض سارے جہاں کی۔اوئے دھامو تو کس خوشی میں منہ اٹھا کہ بیٹھا ہوا ہے ،چل اپنا کام کر۔بھٹے کے منشی نے پاس سے گزرتے ہوئے مجھے ڈانٹا اور میں پھر حقیقی دنیا میں واپس آگیا یہ خیال کتنے اچھے ہوتے ہیں ہم جیسے مفلسوں کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں ۔

سائیکل پر سوار بچوں نے اتنا لطف نہیں اٹھایا ہوگا جتنا کہ میں نے خیالوں میں سکول کا لطف اٹھا تھا۔پھر اینٹیں بناتے ہوئے میں نے ڈھیروں سیریں کیں ۔یہاں تک کہ اینٹیں بنانے کا وقت ختم ہو گیا۔سب اپنی اپنی مزدوری وصول کرنے کو تیار لائن میں کھڑے تھے،ہم بچے بھی ایک قطار میں کھڑے ہوگئے۔میشی مزدوری ان کی طرف یوں اچھال رہا تھا جیسے کوئی روٹی کتوں کی طرف اچھالتا ہے۔لیکن میری بستی کے لوگوں کو پرواہ ہی کہاں تھی وہ تو اپنا حق وصول کر رہے تھے۔

کیوں نہ ان پیسوں سے کھانے کی کوئی چیز خریدوں ۔گھر کی طرف جاتے ہوئے میں ایک سپر سٹور کے سامنے رک گیا۔میرے ساتھی آگے چلے گئے اور مین کافی دیر تک کھڑا رہا مگر اندر جانے کی ہمت نہ ہوئی۔حالا نکہ میں کافی مال دار تھا اور جو مجھ سے کم مال دار تھے وہ شاپر بھر بھر کر لے جا رہے تھے۔شیشوں کے پار قسم قسم کی چیزیں دیکھ کر میرے منہ میں پانی آگیا ۔یہاں بھی میرے خیالوں نے میرا ساتھ دیا اور مجھے لمحوں میں سٹور کا مالک بنا دیا۔قسم قسم کی اشیاء میرے سامنے ڈھیر پڑی تھیں اور میں اپنی پسند کی اٹھا اٹھا کر کھا رہا تھا۔میں جی بھر کر کھا نا چاہتا تھا

دھامو تو یہاں کھڑا ہے،لا پیسے ادھر دے۔میں چیزیں کھانے میں اتنا مگن تھا کہ ابا کے آنے کا پتہ ہی نہ چلا ۔اس نے پانچ کا نوٹ میرے ہاتھ سے کھینچا اور آگے بڑھ گیا۔ایک امیرانہ سی نگاہ سٹور پر ڈال کر میں بھی گھر کی طرف چل پڑا۔جب اتنا کچھ کھا لیا ہے کی چلنا بھی دشوار ہے تو پھر پیسے خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اچھا ہوا ابا نے پیسے لے لیے ،میں بھی نہ بڑا فضول خرچ ہوتا جا رہا ہوں۔

About the author

meerab

Leave a Comment